تیری مجلس میں غنیمت ہے جدھر بیٹھ گئے
هے غرض دید سے، یاں کام تکلف سے نہیں
خواہ اِدھر بیٹھ گئے ، خواہ اُدھر بیٹھ گئے
دیکھا ہووےگا میرے اشک کا طوفاں تم نے
لاکھ دیوار گرے ، سینکڑوں گھر بیٹھ گئے
کس نظر ناز نے ، اس باز کو بخشی پرواز
سینکڑوں مرغ هوا پھاند کے پر بیٹھ گئے
کم هے آواز تیرے کوچہ کے باشندوں کی
نالہ کرنے سے ، گلے ان کے مگر بیٹھ گئے
مفت اُٹھنےکے نہیں یار کے کوچہ سے فقیرؔ
جب کہ بستر کو جما کھول کمر بیٹھ گئے
*(میر شمس الدین فقیر)*
Join: ➡️ @latesturdushayari
مزید شعر و شاعری کے لئے لنک پر کلک کریں۔
↓
╔═════════════╗
▒ ☞
╚═════════════╝