Canal Allama Iqbal @allama_iqbal no Telegram

Allama Iqbal

Allama Iqbal
Poetry from Allama Iqbal علامہ محمد اقبال अल्लामा इक़बाल Dr. Muhammad Iqbal আল্লামা ইকবাল আল্লামা ড. মুহাম্মদ ইকবাল উর্দু কবিতা Urdu poetry, Best urdu poetry, selected poem of allama iqbal اردو شاعر ى كليات اقبال
2,598 Inscritos
475 Fotos
31 Vídeos
Última Atualização 28.02.2025 02:43

Canais Semelhantes

﷽ Islamic Quotes ™
36,672 Inscritos
Islamic Bookshelf
17,323 Inscritos

Allama Iqbal: The Visionary Poet of the East

علامہ محمد اقبال ایک عظیم شاعر، فلسفی اور سیاستدان تھے جن کا انتقال 1938 میں ہوا۔ آپ کا شمار اردو کے معروف شاعروں میں ہوتا ہے، اور آپ کو 'مفکر پاکستان' اور 'شاعر مشرق' کے القابات سے بھی جانا جاتا ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے نہ صرف اپنی قوم بلکہ پورے مسلم معاشرے کی روح کو جگانے کی کوشش کی۔ ان کی شاعری خودی، آزادی، خوابوں کی تعبیر، اور ایک علیحدہ اسلامی ریاست کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ اقبال کی شاعری میں فلسفہ، مذہب، اور عشق کا ایک خوبصورت امتزاج پایا جاتا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہوں نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کیسے سمجھا اور ان کی تعبیر کی۔ اقبال کی مشہور نظم 'شکوہ' اور 'جواب شکوہ' نے اپنے زمانے کی سماجی و سیاسی حالت کا عمیق تجزیہ پیش کیا، جس نے انہیں ایک عالمی سطح پر اہم شاعر بنا دیا۔ آج کل اقبال کی شاعری نہ صرف اردو ادب میں بلکہ عالمی سطح پر بھی پسند کی جاتی ہے، اور ان کا پیغام آج بھی لوگوں کے دلوں میں گونجتا ہے۔

Allama Iqbal کی شاعری کا مرکزی موضوع کیا ہے؟

علامہ اقبال کی شاعری کا مرکزی موضوع 'خودی' یعنی خودی کی پہچان ہے۔ انہوں نے اپنے اشعار میں خودی کو اہمیت دی ہے اور اس کے ذریعے انسان کو اپنی حقیقت کو سمجھنے کی تلقین کی ہے۔ اقبال سمجھتے تھے کہ خودی کی بیداری ہی قوم کی ترقی کی ضامن ہے، اور اسی بنیاد پر انہوں نے اپنی مشہور نظم 'شکوہ' میں مسلمانوں کے کردار کی جانب اشارہ کیا ہے۔ اقبال کا یہ پیغام تھا کہ انسان کو اپنی حیثیت اور طاقت کو جاننا چاہیے تاکہ وہ اپنی تقدیر کا خود مالک بن سکے۔

اُن کے اشعار میں عشق اور قومی خودداری کے موضوعات بھی نمایاں ہیں۔ اقبال نے عشق کو ایک تحریک کے طور پر دیکھا ہے جو انسان کو عظمت کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے۔ ان کی نظموں میں عشق حقیقی، یعنی اللہ کی محبت، اور عشق مجازی، یعنی انسانی عشق، کی خوبصورت ترجمانی کی گئی ہے۔ اقبال کی شاعری کا یہ فلسفہ انہیں اردو ادب میں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔

اقبال کی زندگی میں کیا اہم واقعات پیش آئے؟

علامہ اقبال کی زندگی میں کئی اہم واقعات پیش آئے جنہوں نے ان کی فکر و فلسفہ کو مہمیز دی۔ 1905 میں انگلینڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران، انہوں نے مغربی ثقافت اور فلسفہ کا قریب سے مشاہدہ کیا، جو ان کی شاعری پر گہرے اثرات چھوڑا۔ وہاں انہوں نے 'برٹش انڈیا' کی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھی، جس نے انہیں ایک نئی فکر دینے میں مدد کی۔ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے ان تجربات کو اُجاگر کیا اور اپنے لوگوں کو باخبر کیا۔

ایک اور اہم واقعہ جو اقبال کی زندگی میں پیش آیا وہ 1930 کی دہائی میں مسلم لیگ کے ساتھ ان کا تعلق تھا۔ اقبال نے مسلمانوں کے حقوق کی جدوجہد میں فعال کردار ادا کیا اور 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں 'اسلامی ریاست' کا تصور پیش کیا۔ یہ تصور بدلے میں پاکستان کی بنیاد بنا، جس کی وجہ سے اقبال کو 'بابائے قوم' کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔

اقبال کی مشہور نظموں کے نام کیا ہیں؟

اقبال کی شاعری میں کئی مشہور نظمیں شامل ہیں جنہوں نے اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ 'شکوہ' اور 'جواب شکوہ' ان کی معروف ترین نظموں میں شمار ہوتی ہیں جن میں اقبال نے اللہ سے مسلمانوں کی حالت زار پر شکوہ کیا اور پھر ایک جواب بھی پیش کیا۔ یہ نظمیں اس قدر مقبول ہوئیں کہ آج بھی انہیں گنگنایا جاتا ہے۔

اسی طرح، 'خودی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں' اور 'تربیت' بھی اقبال کی مشہور نظموں میں شامل ہیں، جو خودی اور قومی شعور کی بیداری پر زور دیتی ہیں۔ اقبال کی شاعری میں ان کی فلسفیانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے، جو انہیں دیگر شاعروں سے ممتاز کرتی ہے۔

اقبال کی شاعری کا کیسا انداز تھا؟

اقبال کی شاعری کا انداز فلسفیانہ اور جذباتی دونوں تھا۔ وہ اپنی نظموں میں عمیق تفکر اور جذبات کی شدت کو یکجا کرتے ہیں۔ اقبال کا انداز بیان نہ صرف خوبصورت ہے بلکہ یہ قاری کو غور و فکر کرنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ ان کے اشعار میں سادگی اور گہرائی کا ایک خاص امتزاج پایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، اقبال اپنی شاعری میں مختلف شعری اصناف کا استعمال کرتے ہیں، جیسے غزل، نظم، اور رُکیع۔ ان کی شاعری میں عربی اور فارسی اشعار کی سرمائی بھی ملتی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال ایک جامع اور گہرے علم و فن کے حامل شاعر تھے۔ ان کا یہ منفرد انداز ہی ان کی شاعری کو خاص بناتا ہے۔

اقبال کی شاعری کا عالمی اثر کیا ہے؟

علامہ اقبال کی شاعری کا عالمی اثر نمایاں ہے۔ ان کے اشعار میں مشرق اور مغرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے دنیا کو بتایا کہ اسلامی ثقافت اور فلسفہ کی قدر و قیمت کیا ہے، اور انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ اقبال کی شاعری نے بہت سے بڑے ادیبوں اور شاعروں کو متاثر کیا ہے، جن میں کچھ مغربی دانشور بھی شامل ہیں۔

اقبال کی شاعری کا ایک اور اہم اثر یہ تھا کہ ان کی نظموں اور فلسفے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کی تحریکوں کو متاثر کیا۔ اسلامی عروج اور خودی کی بیداری کا تصور آج بھی مختلف مسلم قوموں کی تحریکوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کی شاعری کی بنیاد پر کئی بین الاقوامی کانفرنسز اور ادبی محفلیں بھی منعقد کی جاتی ہیں۔

Canal Allama Iqbal no Telegram

Are you a fan of Urdu poetry? Do you appreciate the works of renowned poet Allama Iqbal? If so, then you need to check out the Telegram channel 'Allama Iqbal'! This channel, with the username '@allama_iqbal', is dedicated to the poetry of Allama Iqbal, also known as Dr. Muhammad Iqbal. Here you will find a collection of his best Urdu poetry, including selected poems that showcase the depth of his work. Whether you are already a fan of Allama Iqbal's poetry or new to his writings, this channel is the perfect place to immerse yourself in the beauty of Urdu literature. Explore the thoughts and philosophies of this revered poet through his words, which continue to inspire and resonate with readers around the world. Join the 'Allama Iqbal' Telegram channel today and experience the magic of his poetry for yourself!

Últimas Postagens de Allama Iqbal

Post image

ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومت عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں

علامہ اقبال

 

17 Feb, 05:07
314
Post image

مذہب


اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی


اُن کی جمعیّت کا ہے مُلک و نسَب پر انحصار

قوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تری


دامنِ دیں ہاتھ سے چھُوٹا تو جمعیّت کہاں

اور جمعیّت ہوئی رُخصت تو مِلّت بھی گئی

16 Feb, 01:18
378
Post image

 ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام
 وائے تمنّائے خام، وائے تمنّائے خام!

 پیرِ حرم نے کہا سُن کے مری رُوئداد
 پُختہ ہے تیری فغاں، اب نہ اسے دل میں تھام

 تھا اَرِنی گو کلیم، میں اَرِنی گو نہیں
 اُس کو تقاضا روا، مجھ پہ تقاضا حرام

 گرچہ ہے افشائے راز، اہلِ نظر کی فغاں
 ہو نہیں سکتا کبھی شیوۂ رِندانہ عام

 حلقۂ صُوفی میں ذکر، بے نم و بے سوز و ساز
 میں بھی رہا تشنہ کام، تُو بھی رہا تشنہ کام

 عشق تری انتہا، عشق مری انتہا
 تُو بھی ابھی ناتمام، میں بھی ابھی ناتمام

 آہ کہ کھویا گیا تجھ سے فقیری کا راز
 ورنہ ہے مالِ فقیر سلطنتِ روم و شام

02 Dec, 12:51
1,157
Post image

 تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر
 مصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزر

 جس کا عمل ہے بے غرض، اُس کی جزا کچھ اور ہے
 حُور و خِیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر

 گرچہ ہے دلکُشا بہت حُسنِ فرنگ کی بہار
 طائرکِ بلند بال، دانہ و دام سے گزر

 کوہ شگاف تیری ضرب، تجھ سے کُشادِ شرق و غرب
 تیغِ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

 تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سُرور
 ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر!

02 Dec, 12:49
897