Dernières publications de Allama Iqbal (@allama_iqbal) sur Telegram

Publications du canal Allama Iqbal

Allama Iqbal
Poetry from Allama Iqbal علامہ محمد اقبال अल्लामा इक़बाल Dr. Muhammad Iqbal আল্লামা ইকবাল আল্লামা ড. মুহাম্মদ ইকবাল উর্দু কবিতা Urdu poetry, Best urdu poetry, selected poem of allama iqbal اردو شاعر ى كليات اقبال
2,598 abonnés
475 photos
31 vidéos
Dernière mise à jour 28.02.2025 02:43

Canaux similaires

Le dernier contenu partagé par Allama Iqbal sur Telegram


ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومت عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں

علامہ اقبال

 

مذہب


اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی


اُن کی جمعیّت کا ہے مُلک و نسَب پر انحصار

قوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تری


دامنِ دیں ہاتھ سے چھُوٹا تو جمعیّت کہاں

اور جمعیّت ہوئی رُخصت تو مِلّت بھی گئی

 ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام
 وائے تمنّائے خام، وائے تمنّائے خام!

 پیرِ حرم نے کہا سُن کے مری رُوئداد
 پُختہ ہے تیری فغاں، اب نہ اسے دل میں تھام

 تھا اَرِنی گو کلیم، میں اَرِنی گو نہیں
 اُس کو تقاضا روا، مجھ پہ تقاضا حرام

 گرچہ ہے افشائے راز، اہلِ نظر کی فغاں
 ہو نہیں سکتا کبھی شیوۂ رِندانہ عام

 حلقۂ صُوفی میں ذکر، بے نم و بے سوز و ساز
 میں بھی رہا تشنہ کام، تُو بھی رہا تشنہ کام

 عشق تری انتہا، عشق مری انتہا
 تُو بھی ابھی ناتمام، میں بھی ابھی ناتمام

 آہ کہ کھویا گیا تجھ سے فقیری کا راز
 ورنہ ہے مالِ فقیر سلطنتِ روم و شام

 تُو ابھی رہ گزر میں ہے، قیدِ مقام سے گزر
 مصر و حجاز سے گزر، پارس و شام سے گزر

 جس کا عمل ہے بے غرض، اُس کی جزا کچھ اور ہے
 حُور و خِیام سے گزر، بادہ و جام سے گزر

 گرچہ ہے دلکُشا بہت حُسنِ فرنگ کی بہار
 طائرکِ بلند بال، دانہ و دام سے گزر

 کوہ شگاف تیری ضرب، تجھ سے کُشادِ شرق و غرب
 تیغِ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر

 تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سُرور
 ایسی نماز سے گزر، ایسے امام سے گزر!

 کبھی آوارہ و بے خانماں عشق
 کبھی شاہِ شہاں نوشیرواں عشق
 کبھی میداں میں آتا ہے زرہ پوش
 کبھی عُریان و بے تیغ و سناں عشق!

افرنگ مشینوں کے دھویں سے ہے سیہ پوش
ہر گاؤں ہے شہر آشوب کی بڑھتی ہوئی دوش

تشریح:
اس شعر میں علامہ اقبال مغربی تہذیب اور اس کے صنعتی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مغربی دنیا (افرنگ) اپنی مشینوں کے دھویں سے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہے۔ یہ مشینی ترقی اور صنعتی انقلاب فطرت اور انسانی زندگی پر بوجھ بن چکا ہے۔ مشینوں سے نکلنے والا دھواں نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ انسانیت کی روحانی اور اخلاقی اقدار کو بھی مٹانے کا سبب بن رہا ہے۔ ہر گاؤں، جو کبھی سادگی اور سکون کی علامت تھا، اب شہروں کی طرح مسائل کا شکار ہو رہا ہے۔

مسجد قوت الاسلام

ہے مرے سینہ بے نور میں اب کیا باقی
'لاالہ' مردہ و افسردہ و بے ذوق نمود
بے ذوق نمود: اظہار کے ذوق کا نہ ہونا۔
Now naught remains in Muslim's breast, his heart devoid of glint and glow: He avowed with zeal 'No God but He', but dead and cold the zeal for show.
چشم فطرت بھی نہ پہچان سکے گی مجھ کو
کہ ایازی سے دگرگوں ہے مقام محمود
دگرگوں: منتشر۔
ايازي: غلامی۔
The Muslim's state has so declined that Nature fails to know at sight, because the slavish acts of Ayaz have put Mahmud's high rank in plight.
کیوں مسلماں نہ خجل ہو تری سنگینی سے
کہ غلامی سے ہوا مثل زجاج اس کا وجود
مثل زجاج: شیشے کی مانند۔
You have withstood the ruin of Time and kept your ground as firm as rock. Constraint has turned the Muslims weak; you put them all to shame and shock.
ہے تری شان کے شایاں اسی مومن کی نماز
جس کی تکبیر میں ہو معرکہ بود و نبود
بود و نبود: ہستی و نیستی۔
The worship of such Muslims suits your structure immense and so vast, who with one breath that God is Great; found truth and lies away are cast.
اب کہاں میرے نفس میں وہ حرارت، وہ گداز
بے تب و تاب دروں میری صلوہ اور درود
بے تب و تاب دروں: اندرونی تڑپ اور گرمی کے بغیر۔
The Muslim's breast is quite bereft of previous heat and ardour strong; his blessings, worship are devoid of innate heat and fret since long.
ہے مری بانگ اذاں میں نہ بلندی، نہ شکوہ
کیا گوارا ہے تجھے ایسے مسلماں کا سجود؟
شکوہ: دبدبہ۔
His call to prayer is devoid of lofty tones and grandeur great; O God, let this be known to him, will you let him 'fore you prostrate?
[Translated by Syed Akbar Ali Shah]

جدت

دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
افلاک منور ہوں ترے نور سحر سے

NEWNESS
If you behold the world with gaze much bright; of you the sky may beg morning light.
خورشید کرے کسب ضیا تیرے شرر سے
ظاہر تری تقدیر ہو سیمائے قمر سے
سيما: پیشانی، ماتھا۔
The sun may beg light from gleam of your spark your luck may shine, from moon's brow mark.
دریا متلاطم ہوں تری موج گہر سے
شرمندہ ہو فطرت ترے اعجاز ہنر سے

The sea may swell with lustrous waves of gems, put world to shame with art that from you stems.
اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی
کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟

You beg and borrow thoughts of others' brains, to find approach to Self, don't take much pains.
(Translated by Syed Akbar Ali Shah)

You can collect the book from site: https://amzn.to/40yC6l1

Kulliyat-e-Allama Iqbal: All Urdu Poetry of Allama Iqbal (Urdu Classics) (Urdu Edition)